ابنا: رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله عبدالله جوادی ایران کے مقدس شہر قم میں اپنے تفسیر کے درس میں سورہ مبارکہ روم کی تفسیر کو جاری رکہتے ہوئے بیان کیا : قیامت کے سلسلہ میں ہے کہ بعض لوگ خود کو دوبارہ اس دنیا میں پلٹا دئے جانے کی درخواست کرینگے ، اور قیامت کے روز بھی فرار کے راستہ کے سلسلہ میں سوال کرے نگے اور بعض دوزخ میں سے بھی پلٹا دئے جانے کی گزارش کرینگے ، خداوند عالم فرماتا ہے کہ یہاں سے لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ، اور دوسری طرف ارشاد فرماتا ہے قیامت اچانک آنے والا ہے اور ان لوگوں کو حیرت زدہ کر دے گا ، لیکن وہ لوگ اس کو ٹال نہیں سکتے کیونکہ قیامت وہ روز ہے جس کو مسترد اور ٹالا نہیں جا سکتا ہے ، خدا اس دن کو نہیں پلٹا ئیگا کیونکہ نظام خلقت کو بہترین طریقہ سے خلق کیا ہے اسی طرح دوسرے لوگ کسی بھی صورت میں اس دن کو واپس نہیں کر سکتے کیونکہ ان لوگوں کے اختیار میں نہیں ہے۔
انہوں نے آیت ’’لِیَجْزِیَ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِن فَضْلِهِ إِنَّهُ لَا یُحِبُّ الْکَافِرِینَ‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی: دنیا کی عذاب ، عذاب ہونے کے علاوہ اس میں رحمت کا جنبہ بھی پایا جاتا ہے ، کیونکہ مملکن ہے گنہگار اپنی غلطی پر ندامت کرتے کوئے توبہ کر لے ، لیکن آخرت کا عذاب خالص عذاب ہے اس طرح دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے ، اسی طرح خداوند عالم مومنوں کے جزا کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ خدا کے فضل سے ہے تا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ کسی چیز کا وہ مالک ہے اور وہ خدا سے معاملہ انجام دے رہا ہے ، اگر اپنی جان دے رہا ہے تو یہ واقعی فروخت نہیں ہے ، اگر اپنی خدمت پیش کرتا ہے یہ خدمت واقعی اجرت نہیں ہے ، یہ عمل یا یہ جزا اس کی طرف سے ہے ، خدا کے ساتہ معاملہ انجام دینا اس لحاظ سے مفید ہے کہ جنس اور اس کی قیمت خدا خود انسان کو عنایت کرتا ہے اور اس کو واپس عنایت کرتا ہے ، شیطان کے ساتہ معاملات اس وجہ سے نقصان و خسران باعث ہے کہ شیطان جنس اور اس کی قیمت دونوں چیز انسان سے حاصل کرتا ہے اور اس کے بدلہ میں انسان کو کچہ نہیں دیتا ہے یہاں تک کہ خود انسان کو غلام بناتا ہے اور اس غلامی سے فائدہ اٹھانے کے لئے مختصر مقدار میں جو اور چارہ دے دیتا ہے اور کسی کو یہ فکر نہیں کرنا چاہیئے کہ انعام اس کی ملکیت کا سبب ہے۔
انہوں نے اس آیت ’’وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَیِّنَاتِ فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِینَ أَجْرَمُوا وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : قرآن کتاب نور ہے اسی وجہ سے قرآن تزکیہ کو بیان کرتا ہے ہم لوگ چاہتے ہیں اس آیات الہی سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے مطابق عمل کریں نہ کہ بغیر کسی راہ کے قدم بڑھاتے چلیں اور نہ ہی کسی کے راستہ کو بند کریں ، قرآن تعلیم و تزکیہ کی کتاب ہے اور اس کے ساتہ عرفی ادبیات کا بھی خیال رکھا ہے ’’اللَّـهُ الَّذِی یُرْسِلُ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهُ فِی السَّمَاءِ کَیْفَ یَشَاءُ وَیَجْعَلُهُ کِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ‘‘ قرآن کی عرفی ادبیات ہر زمان و مکان میں قابل قبول ہے ، جب قرآن بیان کرتا ہے سورج طلوع کر رہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ زمین نے طلوع کیا۔
.......
/169